بنگلورو،15؍مارچ(ایس او نیوز) ریاست میں ٹیپو سلطان جینتی کے اہتمام کے مرحلے میں اشتعال انگیز تقاریر، فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دینے اور فساد پھیلا نے کے الزام میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنوں کے خلاف درج کریمنل مقدمات کو واپس لینے کے لئے ریاستی بی جے پی حکومت کی طرف سے تمام ضروری قدم اٹھا لئے گئے ہیں -
بتایا جاتا ہے کہ ریاستی پولیس کے اعلیٰ حکام کی طرف سے ایسا نہ کرنے کی سفارش کے باوجود بھی محکمہ داخلہ کی طرف سے پولیس افسروں پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ ان مقدموں کو واپس لینے کے لئے کارروائی کو آگے بڑھایا جائے-
بتایا جاتاہے کہ بی جے پی کے متعدد اراکین اسمبلی کی طرف سے وزیر داخلہ سے یہ مانگ کی گئی ہے کہ ٹیپو سلطان جینتی کے مرحلے میں میسور اور کورگ میں پیش آنے والے پر تشدد واقعات سے جڑے افراد کے خلاف درج معاملوں سمیت جملہ مقدمات واپس لئے جائیں -
اس سلسلہ میں جب محکمہ داخلہ نے پولیس حکام کو ہدایت دی کہ ان مقدمات کو واپس لے لیا جائے تو پولیس کے اعلیٰ حکام نے واضح کیا کہ ان میں سے بیشتر مقدمات پرعدالتی کارروائی چل رہی ہے اور اس پر پولیس کی طرف سے اس کے لئے وکلاء بھی عدالت میں حاضر ہو رہے ہیں اس لئے جب تک عدالتی کارروائی پوری نہیں ہوجاتی اس وقت تک مقدمہ کو واپس نہیں لیا جا سکتا- اس کے باوجود محکمہ داخلہ نے 43مقدمات کو واپس لینے کے لئے احکامات جاری کردئیے ہیں -
پولیس حکام نے بتایا کہ بعض معاملوں میں پولیس کی طرف سے ملزمین کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جا چکی ہے-کچھ کیسوں میں تحقیقات جاری ہیں - اگر ان کی جانچ کو اچانک منسوخ کیا جاتا ہے تو کئی حلقوں میں اس پر شبہ ظاہر کیا جا سکتا ہے- ان تمام پر مشتمل محکمہ پولیس کی سفارشات کو مسترد کرتے ہوئے محکمہ داخلہ نے مقدمات کو واپس لینے کا فیصلہ لیا ہے- جن مقدمات کو واپس لیا گیا ہے ان میں منگلورو میں ہند وجاگرن ویدیکے کے سربراہ جگدیش کارنت کے خلاف درج مقدمہ اور اس کے علاوہ سنگھ پریوار اور بی جے پی کے دیگر کارکنوں کے خلاف مقدمات شامل ہیں -
بتایا جاتا ہے کہ جن مقدمات کو واپس لینے کے لئے حکومت نے جو فہرست تیار کی ہے ان میں اکثریت بی جے پی وزراء ارو ر اراکین اسمبلی ہیں - ان میں قابل ذکر سی ٹی روی، پربھو چوان، کے جی بوپیا، سنیل بی نائک، سی ایم اداسی، روپالی نائک،ڈی ویدویاس کامت، کلکپا بنڈی،ارگا گیانیندرا، نہرو اولیکار، ہریش پونجا، اے ایس جئے رام،کرڈی سنگنا، پرنا ایشورپا منولی، رکن کونسل روی کمار، یو بی باناکار، اروند چندر شیکھر بیلاد وغیرہ شامل ہیں -